پرانے عہد نامہ

نئے عہد نامہ

روت 4:1-8 اردو جیو ورژن (UGV)

1. بوعز شہر کے دروازے کے پاس جا کر بیٹھ گیا جہاں بزرگ فیصلے کیا کرتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد وہ رشتے دار وہاں سے گزرا جس کا ذکر بوعز نے روت سے کیا تھا۔ بوعز اُس سے مخاطب ہوا، ”دوست، اِدھر آئیں۔ میرے پاس بیٹھ جائیں۔“رشتے دار اُس کے پاس بیٹھ گیا

2. تو بوعز نے شہر کے دس بزرگوں کو بھی ساتھ بٹھایا۔

3. پھر اُس نے رشتے دار سے بات کی، ”نعومی ملکِ موآب سے واپس آ کر اپنے شوہر اِلی مَلِک کی زمین فروخت کرنا چاہتی ہے۔

4. یہ زمین ہمارے خاندان کا موروثی حصہ ہے، اِس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو اطلاع دوں تاکہ آپ یہ زمین خرید لیں۔ بیت لحم کے بزرگ اور ساتھ بیٹھے راہنما اِس کے گواہ ہوں گے۔ لازم ہے کہ یہ زمین ہمارے خاندان کا حصہ رہے، اِس لئے بتائیں کہ کیا آپ اِسے خرید کر چھڑائیں گے؟ آپ کا سب سے قریبی رشتہ ہے، اِس لئے یہ آپ ہی کا حق ہے۔ اگر آپ زمین خریدنا نہ چاہیں تو یہ میرا حق بنے گا۔“ رشتے دار نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، مَیں اِسے خرید کر چھڑاؤں گا۔“

5. پھر بوعز بولا، ”اگر آپ نعومی سے زمین خریدیں تو آپ کو اُس کی موآبی بہو روت سے شادی کرنی پڑے گی تاکہ مرحوم شوہر کی جگہ اولاد پیدا کریں جو اُس کا نام رکھ کر یہ زمین سنبھالیں۔“

6. یہ سن کر رشتے دار نے کہا، ”پھر مَیں اِسے خریدنا نہیں چاہتا، کیونکہ ایسا کرنے سے میری موروثی زمین کو نقصان پہنچے گا۔ آپ ہی اِسے خرید کر چھڑائیں۔“

7. اُس زمانے میں اگر ایسے کسی معاملے میں کوئی زمین خریدنے کا اپنا حق کسی دوسرے کو منتقل کرنا چاہتا تھا تو وہ اپنی چپل اُتار کر اُسے دے دیتا تھا۔ اِس طریقے سے فیصلہ قانونی طور پر طے ہو جاتا تھا۔

8. چنانچہ روت کے زیادہ قریبی رشتے دار نے اپنی چپل اُتار کر بوعز کو دے دی اور کہا، ”آپ ہی زمین کو خرید لیں۔“

پڑھیں مکمل باب روت 4